شب خون

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رات کا حملہ، چھاپہ، رات کے وقت بے خبری میں دشمن پر حملہ۔ "کوئے یار میں شب خون کے خواب دیکھنے والے کسی رجز خواں کا اس داستان میں بھی کہیں ذکر نہیں ہے"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٣٦ )

اشتقاق

فارسی اسم 'شب' کے ساتھ فارسی اسم 'خون' ملنے سے مرکب امتزاجی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رات کا حملہ، چھاپہ، رات کے وقت بے خبری میں دشمن پر حملہ۔ "کوئے یار میں شب خون کے خواب دیکھنے والے کسی رجز خواں کا اس داستان میں بھی کہیں ذکر نہیں ہے"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٣٦ )

جنس: مذکر